ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے سنئیر مذاکرات کاروں کے نائبین علی باقری اور ہلگا اشمیت کے درمیان تقریبا بیس دن قبل مذاکرات کا پہلا دور استبول میں ہوا۔ان مذاکرات کے انعقاد کا مقصد اختلاف رائے کو کم کرنا اور تجویز کا بغور جائزہ لینا ہے تاکہ اصل مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوسکیں۔ اگر ماہرین کے مذاکرات مثبت ثابت ہوئے اور فریقین مذاکرات جاری رکھنے کے سلسلے میں ایجنڈہ تیار کر سکے تو اس صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سنیئر مذاکرات کار اور اعلی قومی سلامتی کے سیکرٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے مذاکرات کے لۓ وقت اور جگہ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ استنبول سے بغداد مذاکرات تک کے عرصے کے دوران یہ تاثر پیدا ہوگيا تھاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک بغداد مذاکرات میں متفقہ موقف پر پہنچ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ ماسکو مذاکرات جو اس حوالے سے آخری مذاکرات تھے وہ بھی نتیجہ بخش ثابت نہ ہوئے بہرحال ماسکو مذاکرات میں یہ ضرور طے پایا کہ ماہرین کی سطح پر مذاکرات کو جاری رکھا جائے اور اس کے لئے استنبول کا مقام قرار پایااسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ماہرین کے مذاکرات کا دوسرا دور آج ترکی کے شہر استنبول میں ایسے عالم میں ہورہا ہے کہ امریکہ اور یورپ کی طرف سے ایران پر یکطرفہ پابندیوں کا سلسہ جاری ہے اور ان پابندیوں کے سائے مذاکرات پر بھی پڑھ رہے ہیں جو ان ممالک کی غیر منطقی روش کا واضح مظہر ہیں بعض سیاسی ماہرین امریکہ کی اس روش کو مذاکرات سے فرار قرار دے رہے ہیں۔جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے ایران پر دباو بڑھانے کا زریعہ سمجھتے ہیں۔ایران پر پابندیوں کا ان مذاکرات پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور اس سلسلے کے جاری رہنے سے پانچ جمع ایک مذاکرات کی اساس کو شدید نقصان پہنچے گا۔بعض افراد مسئلے کی اہمیت اور ٹیکنیکل مسائل کو مذاکرات کے نشیب و فراز کا باعث سمجھتے ہیں لیکن اب یہ بات روز بروز واضح ہوتی جارہی ہے کہ مذاکرات میں شامل بعض ممالک اس مسئلے کو ٹیکنیکل کی بجائے سیاسی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور اپنے سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر اس مسئلے کو آگئے بڑھانا چاہتے ہیں۔مذاکرات میں اس موضوع کو اہمیت دینی چاہیے کہ آیا ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے یا نہیں؟ کیا ایران این پی ٹی کے معاہدے پر عمل کررہا ہے یا نہیں؟ لیکن امریکا اور اس کے اتحادی ان مسائل سے ہٹ کر اپنے اھداف کے خواہاں ہیں۔ایران کے ایٹمی پروگرام میں عدم انحراف نیز این پی ٹی معاہدے پر عمل درآمد کو استنبول مذاکرات میں ضمنی طور پر تسلیم کیا گیا ہے لیکن مغرب کی طرف سے لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے۔ایران نے بغداد اجلاس میں پانچ بنیادی تجاویز پیش کی تھیں جن میں چار ایٹمی توانائی سے متعلق تھیں ۔ان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ایران عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مخالف ہے اور پوری عالمی برادری کو ان کے خاتمے کے لئے کوشش کرنا چاہیے اس میں دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ایران کے ایٹمی حق کو تسلیم کیا جائے اور یورینیم کی افزودگی کے حق کو باقاعدہ مانا جائے کیونکہ این پی ٹی کے رکن ممالک کو یہ حق دیا گیا ہےمذکورہ نکات کی روشنی میں ایران نے مذاکرات کے عمل کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ مذاکرات کے دوسرے فریق میں اس مسئلے کو درک کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں اور ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ماہرین کے مذاکرات کا دوسرا دور کس حد تک مذاکرات کے جاری رہنے اور اعتماد سازی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے. ........
/169